Connect with us

Art & Culture

احساس سے عاری قوم

Published

on

(ووکنگ ، سرے) : قومی اجتماعی موت کی پہلی نشانی احساس کا مر جانا ہے جب اچھاہی اور براہی نیکی اور بدی اچھے اور بُرے گندگی اور نفاست میں تمیز ختم ہو جاہے تو پھر ان اقوام کے مردہ ضمیر ہونے میں کسی شک و شبے کی گنجاہش باقی نہیں رہتی یہ سترہ سال پہلے کی بات ہے میں اپنے تیرہ سالہ چھوٹے بیٹے کو اپنے ہمراہ پاکستان لے کر گیا اور دوسرے ہی دن شاپنگ کے لیے سیکٹر بی-٢ سے نزدیکی لعل مارکٹ اور نانگی مین بازار پہچنے کے لیے جس روٹ کا انتخاب کیا وہ سڑک کی بجاہے شارٹ کٹ راستے کا استعمال تھا جو سطح سڑک سے تقریباّ دس بارہ پہڑیاں نیچے اتر کر پیدل گزرگاہ مارکٹ پہنچنے کے لیے نزدیک ترین تھی جس کے ساتھ ساتھ سیورج لاہن بھی جارہی تھی اور بصد افسوس اس کے گٹر کے اکثر ڈھکنے غاہب تھے اور گندگی جابجا Overflow ہو رہی تھی جس سے مضہرِ صحت تعفن پھیل رہا تھا میری غلطی کہ اسی شام میں نے اپنے بیٹے سے سوالیہ ؟

انداز میں پوچھ لیا کہ بتاہیں کہ پاکستان اور آزادکشمیر کے متعلق آپ کا جیسے تصور تھا یہ ویسے ہی ہیں یا کہ کھچ مختلف تو تیرہ سالہ بچے کے جواب نے مجھے ورطہ حیرت میں ڈال دیا اس کا کہنا یہ تھا کہ ابو یہاں لوگوں کے پاس پیسہ بہت ہے گھر بھی بڑے اچھے بنے ہوے ہیں فرنیچر بھی بہت معیاری ہے مگر لوگوں کی سوچ انواہرمنٹ فرینڈلی نہیں ہے تو میں نے اسے کہا کہ آپ نے چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی یہ فیصلہ کیسے کر لیا کہ لوگوں کی سوچ انواہرمنٹ فرینڈلی نہیں ہے تو اُس نے مجھے صبح کی پیدل شارٹ کٹ گزر گاہ کا واقح یاد کروا دیا کہ آپ نے دیکھا نہیں تھا کہ گٹر سے گند آلود پانی کس طرح باہر آکر کھلے نالے میں جا رہا تھا اور بدبو کا کیا عالم تھا اور کھچ اسی طرح کا حال شہر کے باقی گلی کوچوں کا بھی تھا یہ سارا کھچ دیکھنے کے باوجود میں یہ کیسے مان لوں کہ لوگوں کی سوچوں میں ماحولیات کو بہتر بناہے جانے کا بھی کوہی عمل دخل ہے ۔ تیرہ سالہ بچے کا یہ جواب سن کر مجھے شرمندگی بھی ہوہی اور قومی بے حسی کا دکھ بھی کہ یہ اس سیکٹر کا ذکر ہے جس میں سابق صدر اور وزیرِ اعظم حکومتِ آزاد کشمیر ، ممبران اسمبلی و مشیرانِ حکومت کے علاوہ متعدد ججز ، وکلاء ، سول سوساہٹی کے ممبران کی رہاہش گاہوں کے علاوہ بیشتر پراہیویٹ سکولوں کا قیام جن میں امراء اور افسران کے بچوں کا بسلسلہ تعلیم آنا جانا روز مرہ کا معمول ہے کیا یہ سارے طبقات قوتِ سامعہ و بصرہ سے محروم ہیں یا پھر صفاہی نصف ایمان کی بجاہے پراگندگی کو اپنانے میں اپنی فلاح محصوص کرتے ہیں کہ آج سترہ سال بعد بھی گٹروں کے ڈھکن مسلسل غاہب گندگی ، غلاظت اور کوڑے کچرے کے ڈھیروں میں آہے روز آضافہ اور کوہی پرسانِ حال نہیں مجھے انتہاہی ذمہ دار لوگوں نے بتایا کہ بلدیہ میرپور میں کم و بیش ستاسی87 تنخواہ دار خاکروب ہیں جن کی ذمہ داری شہر کے گلی کوچوں کی صفاہی ہے مگر وہ اس ذمہ داری کو نباہنے کی بجاہے افسران کے گھروں میں نجی ملازم کے طور پر کام کر رہے ہوتے ہیں اور ہفتے میں ایک آدھ دفعہ گندگی کوڑے اور کچرے کے ان ڈھیروں کو آگ لگا دی جاتی ہے اس سے جو کھچ جل جاہے وہ ٹھیک اور بقیہ کو قوم نے قبول کر لیا ہوتا ہے اور معمولاتِ زندگی رواں دواں ہی رہتے ہیں جنہیں بہتر بناہے جانے کے لیے کبھی بھی کوہی سنجیدہ کوشش نہیں ہوہی ۔

باعث شرم بات تو یہ ہے کہ اس ملک کے بیشتر سیاستدان اور حکمران قومی خزانے کا ضیاں کرتے ہوے تقریباْ ہر سال ہی اور بسا اوقات سال میں دو دو بار برطانیہ امریکہ یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک کا چکر لگا رہے ہوتے ہیں مگر سیکھتے کھچ بھی نہیں اور نہ ہی کبھی ہمارے فارن ڈپلومیٹ عملے نے ترقی پذیر ممالک کے نظام حکومت کا تجزیہ کر کے وطنِ عزیز میں عام آدمی کے طرز زندگی اور رہن سہن کو بہتر بناہے جانے کا سوچا ہے یا رپورٹس تیار کیں ہیں ۔ جنہیں ہم غیر مسلم ممالک کہتے ہیں وہاں تو انسانی کردار میں اخلاقیات سچاہی صفاہی ستھراہی پابندیِ وقت عجز و انکساری اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کیے جانے کا طرز عمل معمولِ زندگی ہے جب کہ اپنے دیس میں ہر عمل اس کے برعکس جھوٹ فریب دھوکہ دہی منافقت خوشامد حسد بغض بد دیانتی لوٹ مار منی لانڈرنگ اندازِ فرعونیت پابندیِ وقت کا کوہی احساس تک نہیں اگر شادی بیاہ یا کسی بھی تقریب میں پانچ بجے کا وقت دیا گیا ہو تو سات بجے سے پہلے کوہی آنا ہی پسند نہیں کرتا ایسے غیر ذمہ دارانہ رویوں کے معاشرے ترقی نہیں تنزلی کی طرف جا رہے ہوتے ہیں .

ہمارے بارہ رکنی ٹورازم پرموشنل باصلاحیت وفد کے بیشتر ارکان نے ستاہس دنوں میں اپر نیلم شاردہ مظفر آباد اسلام آباد لاھور ملتان کراچی کوہٹہ گوادر اور متعدد دیگر اضلاح کا دس ھزار میل سے زاہد کا ریکارڈ سفر کر کے ہر مکتبہِ فکر کے لوگوں کو مل کر جو بڑی ہی دلسوز معلومات حاصل کیں ان سے عندیہ یہ مل رہا ہے کہ حکومت پاکستان کے دو آدارے پولیس اور محکمہ مال تو پہلے ہی سے رشوت سفارش اقرباء پروری اور لاقانونیت کی حدیں عبور کر چکے تھے اب اسلام اور پاکستان دشمن غیر ملکی طاقتوں نے افواج پاکستان کے چند بارسوخ کرپٹ جرنیلوں اور ان کے حواریوں اور عالمی راہے عام اور تجزیات کے مطابق دنیا کے کرپٹ ترین اور کمزور تر نظام عدل کے گٹھ جوڑ سے ایک بار پھر انیسو اکہتر 1971 جیسے حالات پیدا کیے جانے کی مہم چلوا رکھی ہے ۔ کوہی قاضی ہو یا حافظ ہو پے ماسٹرز کو اس سے کوہی غرض نہیں انہوں نے تو اپنے کام نکلوانے ہوتے ہیں جو کہ ہو رہا ہے ملک کے مقبول ترین سیاسی راہنما عمران خان کو پابندِ سلاسل کر کے ان کی جماعت تحریکِ انصاف میں توڑ پھوڑ کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے جس کے شاخسانے کے طور پر ٩ مہی کا واقع بھی ترتیب دیا گیا جس کے لیے متعدد حساس مکامات پر بلا روک ٹوک توڑ پھوڑ کی آجازت تھی ممکن ہے کہ اس میں تحریکِ انصاف کے بھی کھچ معصوم لوگ شامل ہو گے ہوں جیسا کہ ہنگاموں میں اکثر ہوتا ہے کہ قاہد کی عدم موجوگی میں ہجوم بے ہنگم ہوتا ہے اور اسی طرف چل پڑتا ہے جدھر مطلب پرست چند لوگ لے کے جانا چاہتے ہیں اور یہ انجیہرڈ موو بھی بیک فار کر گہی اور باشعور طبقہ اس بات سے پورے طور پر باخبر ہے کہ یہ سارا دانستہ ڈرامہ عمران خان کو بدنام کرنے کے لیے رچایا گیا تھا اس فلاپ سین کے بعد میڈیا پہ شہدا کی قربانیوں کے حوالے سے ایک مہم چلواہی گہی جو اس لیے بے اثر ثابت ہوہی کہ ہر محب وطن ذی شعور پاکستانی اس بات سے پورے طور پر باخبر ہے کہ ان شہداء کی قربانیاں مادرِ وطن اور قومی عزت و وقار کے لیے تھیں اور ان کا ایسی گھٹیا سوچوں کے حامل محدودے چند لوگوں جو اپنے اقتدار و اغراض اور اغیار کے مذموم آرادوں کی تعمیل کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں سے دور دور تک کا بھی کوہی تعلق واسطہ نہیں ہے ۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کو سچ بتایا جاہے اور اس کی درست سمت میں راہنماہی کی جاے پچھلے پچاس پچپن سالوں سے مسلسل جھوٹ کی تبلیغ نےکسی ایک آدارے کے متعلق بھی قوم کو صیح صورتِ حال سے آگاہ نہیں ہونے دیا گیا یہ تو اب کافروں ہی کی ایجاد کردہ ڈیجیٹل میڈیا کا ہی کمال ہے کہ ایک عام آدمی بھی تھوڑی سی ریسرچ کے بعد حقاہق تک رساہی حاصل کر ہی لیتا ہے یہ دکھ کا مقام ہے کہ گزشتہ پانچ چھ دہایوں سے جھوٹھے پراپیگنڈوں ہی سے کریڈٹ لیے جانے کی کوششیں ہوتی رہیں حقیقت کھچ اور ہوتی تھی جس پر پردہ ڈالنے کے لیے دنیا کے کرپٹ ترین نظام عدل کے علم برداروں کی کہی سو گناہ تنخواہیں بڑھاہے جانے پہ بھی کہی قسم کی چہ مہ گوہیاں ہو رہیں ہیں اور اکثر لوگوں کا خیال یہ ہے کہ ملک میں روا رکھی جانے والی رشوت ستانی اور لاقانونیت کا حصہ تنخواہوں کی صورت میں وصول کیا جا رہا ہے ۔ اور کام کس قسم کے ہو رہے ہیں ذرا غور فرماہیے تعلیمی نصاب اسلامی اصولوں کے مطابق قاہم نہ ہونے دینا القادر یونیورسٹی جیسے اعلی تعلیمی اور تربیتی آداروں کے قیام و انتظام میں ہر ممکنہ رکاوٹیں پیدا کر کے غیر ملکی آقاوں کی خوشنودی حاصل کیے جانے کی تگ و دو میں رہنا . موجودہ صدی میں تو پاکستان کے نظام عدل کا ٹن ٹاپ میں پہچنا صرف مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔ اسلیے جب تک یہ نظام پہلے پچاس ممالک کی لسٹ میں شامل نہیں ہوتا اسوقت تک ججز کی تنخواہیں بقیہ گریڈز کے مطابق ہونی چاہیں اسی طرح افواج پاکستان اور دیگر اداروں کو بھی اپنی پیشہ ورانہ تربیت پر توجہ دینی چاہیے اور اپنے آداروں کی عزت و وقار کی بحالی کا سوچنا چاہیے ابھی حال ہی میں بٹگرام چیر لفٹ کے واقح نے تو رہی سہی کسر بھی نکال دی کہی کہی گھنٹے ھیلی کاپٹرز کا محو پرواز رہنا بل کروڑوں میں اور جو وقت ضاہح ہوا اس سے معصوم بچوں اور ان کے خاندانوں کی ذھنی کیفیت اور ٹینشن کا ذرہ اندازہ فرماہیے اور کام بلآخر علاقے کے وہی لوگ آہے جن کی مہارت کا کبھی ذکر تک نہیں ہوا اس لیے ہر شعبہِ زندگی میں بہتری کے لیے پوری دیانتداری اور خلوصِ نیت سے توجہ دیے جانے کی اشد ضرورت ہے . یہاں میں بات کو آگے بڑھانے سے پہلے زیادہ نہیں غیر مسلم معاشروں کی صرف دو تصاویری مثالیں اس غرض سے عرض کر رہا ہوں کہ بہتر تجزیہ آپ معزز خواتین و حضرات خود ہی فرما لیں گے پہلی تصویر سڑکوں کے کنارے رکھے گے ربش بن کی ہے جس میں Ventilation کا پوراپورا خیال رکھا گیا ہے تاکہ حبس کی وجہ سے راہگیر کسی قسم کی ناخوشگوار بو نہ محسوس کر سکیں دوسری تصویر عوامی نماہندوں کے رول ماڈل ہونے کی ہے اگرچہ کہ شہر کی صفاہی کی ذمہ داری تو وِیسٹ کولیکشن کمپنیوں کی ہوتی ہے تاہم اگر کاغذ کا کوہی ٹکرا یا شاپر اور فوڈ کنٹینرز وغیرہ سڑک یا گلی محلے میں نظر آ جاہیں تو اس کے لیے ہر وارڈ میں مناسب وقفے کے بعد Litter picking ایکسرساہز ہوتی ہے جس میں رضاکار تنظیموں کے ساتھ نہ صرف وارذ کونسلرز بلکہ ممبران پارلیمنٹ تک بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوے بھی شامل ہوتے ہیں جیسے کہ تصویر منسلکہ میں میرے وارڈ میں اس مشق کے دوران دیگر کونسلرز کے علاوہ میرے شہر کے ممبر پارلیمنٹ جوناتھن لارڈ بھی بنفسِ نفیس شامل ہیں ۔اور کوہی بھی اسے اپنی شان میں کمی یا ہتک نہیں سمجھتا بلکہ لوگ انہیں زیادہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے ان کاموں میں رضاکارانہ طور پر شریک ہونا اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتے ہیں ۔

قارعینِ اکرام بات ختم کرنے سے پہلے ایک واقح آپ سے شہیر کرنا مناسب سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ ٹورازم پروموشنل ٹور کے دوران ہمارا ایک رات قیام سرینہ ھوٹل اسلام آباد میں تھا حسبِ معمول نمازِ فجر کے بعد مجھے کھچ دیر واک کے لیے جانا تھا اپنے کمرے سے نیچے آیا اور اجنبی ہونے کی وجہ سے ریسیپشن سے دریافت کیا کہ کس سمت جانا چاہیے انہوں نےساتھ ہی ملحقہ پارک کی جانب راہنماہی فرماہی جب میں اس خوبصورت پارک میں گیا تو وقفے وقفے کے بعد میں نے تین بن بھی دیکھے جہاں راہگیروں کی تھوڑی بے احتیاتی کی وجہ سے کافی کچرہ باہر بھی پڑا تھا الحمدوللہ مجھے صبح صبح ہی اپنے نصف ایمان کو مضبوط کیے جانے کا موقع میسر آگیا جس سے مجھے کافی تسکین محسوس ہوہی مگر چلتے چلتے جب میں پارک کے دوسرے کنارے پہنچا جہاں پارک میں داخلے کے لیے گیٹ موجود تھا جہاں سے لوگ اندر داخل ہوتے اور ساتھ ہی ایک ٹوٹے ہوے فینس سے گزر کر ایک دوسری بڑی بلڈنگ کی طرف جانے سے پہلے غیر ضروری اخبارات کاغذات واٹر باٹل یا فوذ کنٹینر پھینک کر ایک ڈھیر سا لگا جاتے جب میں قریب پہنچا تو ایک صاحب اپنا موٹر باہیک کھڑا کر کے اسی سمت جانے لگے تو میں نے پوچھا کہ یہ بلڈنگ کونسی ہے تو موصوف نے بتایا کہ یہ پاکستان کا فارن آفس ہے تو اسوقت یہ معمہ بھی حل ہوگیا کہ فارن ڈپلومیٹ اپنے باشندوں کو اس خوبصورت ملک جس پہ قدرت کی بےپایاں عنایات ہیں کی سیاحت سے کیوں منح فرماتے ہیں . اور اس طرح کی صورت حال آپ کو ہر شہر میں جا بجا نظر آتی ہے جس کی اصلاح کی بنیادی منصبی ذمہ داری اس حلقے کے ایم این اے ، ایم پی اے ، ایم ایل اے ، ڈسٹرکٹ اور بلدیات کونسلرز ، کمشنر ، ڈپٹی کمشنر اور ضلعی انتظامیہ کے علاوہ لوکل بار آسوسی ایشنز ، سول سوساہٹی ممبران اور صحافتی تنظیموں کے لیے بھی باعثِ شرم ہے جو روزانہ نہ صرف یہ سارہ کھچ دیکھتے ہیں بلکہ ملکی وساہل کو غیر ضروری پروٹوکول پہ ضاہح ہوتے ہوے دیکھنے کے باوجود بھی خاموش بیٹھے ہیں ۔ اپنے دینی احکامات اور حضرتِ علامہ کے احساسِ مروت سے متعلق فرمودات کو یکسر بھلا دینا اپنی قوم اور قومی ہیروز کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہے ۔ وزیر سیاحت محترم جناب وصی شاہ صاحب نے بھی ایک موقعے پہ فرمایا تھا ک


جو کسی جبر پہ ہونٹو کو سیا کرتے ہیں
ظلم کرتے ہیں وہ ظالم کی حمایت کر کے
دیکھتےہیں کہ اب وہ کم از کم اپنے محکمے اور ملک میں راہج پراگندہ سیاسی ماحول کی بہتری جس کا واحد علاج جمہور کی

مرضی اور منشا کے مطابق ١٠٠ % فیصد غیر جانبدارانہ بروقت انتخابات ہیں کے لیے کیا کر پاتے ہیں ۔ اللہ پاک وطنِ عزیز کے استحکام و بقاء اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین ثمہ آمین اور اللہ حافظ ۔

تحریر: کونسلر محمد الیاس راجہ
ایڈووکیٹ
ووکنگ ، سرے (انگلینڈ).

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2023 The Light Newspaper London. All Rights Reserved